امریکا میں جنسی اسمگلنگ اور زیادتی کے مقدمے میں الیگزینڈر بھائیوں کو 30، 30 سال قید

نیویارک کی وفاقی عدالت نے زیادتی اور جنسی اسمگلنگ سے متعلق وفاقی جرائم میں قصوروار ٹال، اورین اور ایلن الیگزینڈر کو 30، 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

امریکا میں خواتین کو نشہ آور اشیا دے کر زیادتی کرنے اور جنسی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے جرم میں قصوروار قرار دیے گئے الیگزینڈر برادران تینوں کو 30، 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ نیویارک کی مین ہٹن وفاقی عدالت کی جج ویلیری ای کیپرونی نے منگل، 27 اکتوبر کو 40 سالہ ٹال الیگزینڈر اور 39 سالہ جڑواں بھائیوں اورین اور ایلن الیگزینڈر کو سزا سنائی۔ مارچ 2026 میں چھ ہفتے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد تینوں کو جنسی اسمگلنگ کی سازش سمیت متعدد وفاقی جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

عدالت میں 11 خواتین نے اپنے تجربات بیان کیے

سزا سنائے جانے سے قبل 11 خواتین نے عدالت میں بتایا کہ ان واقعات نے ان کی زندگیوں پر کتنا گہرا اثر ڈالا۔ کئی خواتین نے کہا کہ انہیں طویل عرصے تک خوف، ذہنی دباؤ اور ڈراؤنے خوابوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ نے بتایا کہ واقعے کے بعد دوسروں پر اعتماد کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔

ایک خاتون نے اپنی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے تبدیل شدہ نام سے بیان دیا۔ انہوں نے بتایا کہ چند گھنٹوں پر مشتمل ایک واقعے نے ان کی پوری زندگی بدل دی۔ عدالت میں موجود کئی خواتین بیان دیتے ہوئے جذباتی ہوگئیں۔ بعض متاثرہ خواتین نے ملزمان کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ بھی کیا۔

جج نے تینوں بھائیوں کے رویے پر تنقید کی

امریکی ضلعی جج ویلیری کیپرونی نے سزا سناتے ہوئے تینوں بھائیوں کے طرز عمل پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ شادی اور والد بننے کے بعد اپنے رویے میں تبدیلی آنے کا ان کا دعویٰ ماضی میں کیے گئے جرائم کی سنگینی کو کم نہیں کرتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ تینوں بھائیوں نے طویل عرصے تک اپنی مالی حیثیت اور سماجی روابط کا استعمال خواتین تک رسائی حاصل کرنے اور ان کا استحصال کرنے کے لیے کیا۔ جج نے ہر بھائی کو 30 سال قید کے علاوہ رہائی کے بعد 10 سال تک نگرانی میں رہنے کی سزا بھی سنائی۔

70 سے زائد خواتین کے استحصال کا معاملہ

استغاثہ کے مطابق کم از کم 70 خواتین نے ایک یا ایک سے زیادہ الیگزینڈر بھائیوں پر جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان میں نیویارک کے مین ہٹن، لانگ آئی لینڈ کے ہیمپٹن علاقے اور کولوراڈو کے ایسپن میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔

سرکاری وکلا نے بتایا کہ ملزمان خواتین کو مہنگی پارٹیوں، پرتعیش گھروں اور سفروں کی دعوت دیتے تھے۔ متعدد معاملات میں خواتین کو ان کی لاعلمی میں نشہ آور اشیا دی گئیں۔ استغاثہ کے مطابق نشے کے اثر میں آنے کے بعد خواتین اپنی حفاظت کرنے یا وہاں سے نکلنے کی پوزیشن میں نہیں رہتی تھیں۔

تحقیقات میں سامنے آنے والے تمام الزامات الگ الگ واقعات سے متعلق ہیں۔ عدالت کا فیصلہ ان جرائم کی بنیاد پر ہے جن کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران شواہد پیش کیے گئے تھے۔

2011 کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے خاتون جذباتی ہوگئیں

فنکارہ اور گیلری کی منتظم لنڈسے ایکری نے عدالت کو بتایا کہ 2011 میں ہیمپٹن کے ایک گھر میں ان کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایک مشروب پینے کے بعد وہ جسمانی طور پر بے بس محسوس کرنے لگی تھیں۔ انہوں نے ٹال الیگزینڈر اور ایک دوسرے شخص پر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔

عدالت میں انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے متاثرہ خواتین کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ کرنا مشکل ہے۔ ایک اور خاتون نے 2014 کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس تجربے نے ان کی زندگی اور مستقبل کے بارے میں سوچ بدل دی۔

تینوں بھائیوں نے جرائم سے انکار کیا

سزا سنائے جانے سے قبل تینوں بھائیوں کو عدالت میں بات کرنے کا موقع دیا گیا۔ اورین الیگزینڈر نے کہا کہ انہیں ماضی میں خواتین کے بارے میں کہی گئی بعض باتوں پر افسوس ہے۔ تاہم انہوں نے نشہ آور اشیا دے کر زیادتی کرنے اور جنسی اسمگلنگ میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔

ٹال الیگزینڈر نے بھی الزامات کو غلط قرار دیا۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک ہی جیل میں رکھا جائے تاکہ ان کے معمر والدین ان سے ملاقات کرسکیں۔ ایلن الیگزینڈر نے کہا کہ شادی اور خاندانی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ان کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے۔ تاہم عدالت تینوں کو متعلقہ جرائم میں پہلے ہی قصوروار قرار دے چکی تھی۔

لگژری رئیل اسٹیٹ کاروبار میں شناخت بنائی

ٹال اور اورین الیگزینڈر کبھی امریکا کے معروف لگژری رئیل اسٹیٹ بروکرز میں شمار ہوتے تھے۔ دونوں نے ڈگلس ایلیمن جیسی بڑی کمپنی کے ساتھ کام کیا اور بعد میں اپنی رئیل اسٹیٹ فرم شروع کی۔ مہنگی ترین جائیدادوں اور بااثر گاہکوں کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنی شناخت بنائی تھی۔

تیسرے بھائی ایلن الیگزینڈر اپنے خاندان کی نجی سکیورٹی کمپنی سے وابستہ تھے۔ استغاثہ کے مطابق تینوں نے خواتین کو متاثر کرنے کے لیے اپنی مالی اور سماجی حیثیت کا استعمال کیا۔

استغاثہ نے عمر قید کا مطالبہ کیا تھا

وفاقی استغاثہ نے تینوں بھائیوں کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کئی برس تک جاری رہنے والے جرائم سے متاثرہ خواتین کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب دفاعی وکلا نے قانون کے تحت کم از کم 15 سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔

عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ہر مجرم کو 30 سال قید کی سزا سنائی۔ تینوں بھائیوں کو دسمبر 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد سے وہ ضمانت کے بغیر حراست میں تھے۔ اب دفاعی فریق سزا اور جرم ثابت ہونے کے فیصلے کے خلاف مزید قانونی کارروائی کرسکتا ہے۔ فی الحال عدالت کا فیصلہ تینوں بھائیوں کے خلاف نافذ العمل ہے۔

Leave a comment