مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق ایک نئی تحقیق کے مطابق آنے والے وقت میں متعدد دفتر پر مبنی ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ کام جن میں بار بار دہرائے جانے والے اور طے شدہ طریقۂ کار پر مبنی عمل شامل ہوتا ہے، جیسے ڈیٹا انٹری یا کسٹمر سروس، وہاں مصنوعی ذہانت کا اثر سب سے پہلے ظاہر ہو سکتا ہے۔
اے آئی کمپنی Anthropic کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کن ملازمتوں کو ابتدائی مرحلے میں متاثر کر سکتی ہے۔ یہ مطالعہ کمپنی کے ماہرینِ معاشیات Maxim Massenkoff اور Peter MacCrory نے تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں Exposure Index نامی ایک نظام استعمال کیا گیا ہے جو یہ اندازہ لگاتا ہے کہ کسی ملازمت کے کتنے کام مصنوعی ذہانت کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ مطالعے کے مطابق ٹیکنالوجی، کسٹمر سروس اور ڈیٹا انٹری جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا اثر ابتدائی طور پر ظاہر ہو سکتا ہے، جبکہ جسمانی محنت پر مبنی کئی پیشے فی الحال نسبتاً محفوظ سمجھے جا رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں کے ممکنہ خطرے کو جانچنے کے لیے Maxim Massenkoff اور Peter MacCrory نے ایک مخصوص نظام تیار کیا جسے Exposure Index کہا جاتا ہے۔ یہ نظام ملازمت کے عہدے کے بجائے اس ملازمت کے اندر انجام دیے جانے والے مختلف کاموں کا تجزیہ کرتا ہے۔
اگر کسی پیشے میں ایسے کاموں کی تعداد زیادہ ہو جنہیں مصنوعی ذہانت کے ٹولز آسانی سے انجام دے سکتے ہوں تو اس ملازمت کا اسکور زیادہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شعبے میں مصنوعی ذہانت کے باعث تبدیلی آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ پہلے استعمال ہونے والے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ درست سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ براہِ راست کام کی نوعیت پر توجہ دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی اور دفتر پر مبنی متعدد ملازمتیں مصنوعی ذہانت کے اثرات کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔ خاص طور پر پروگرامر اور سافٹ ویئر ڈویلپر جیسے پیشوں کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز اب کوڈ لکھنے اور کئی تکنیکی عمل کو سنبھالنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ کسٹمر سروس نمائندے، ڈیٹا انٹری آپریٹر اور میڈیکل ریکارڈ سے متعلق کام بھی ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان ملازمتوں میں عام طور پر منظم اور بار بار دہرائے جانے والے کام شامل ہوتے ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت کے نظام آسانی سے خودکار بنا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کمپنیاں ان کاموں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھا رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے متاثر نہیں ہوں گی۔ وہ کام جن میں جسمانی موجودگی اور حقیقی دنیا میں عملی سرگرمی کی ضرورت ہوتی ہے فی الحال نسبتاً محفوظ سمجھے جا رہے ہیں۔
مثال کے طور پر باورچی، لائف گارڈ یا برتن صاف کرنے جیسے پیشے اس وقت مصنوعی ذہانت کے دائرۂ اثر سے کافی حد تک باہر ہیں۔ ان کاموں میں انسانی مہارت، فوری فیصلہ سازی اور جسمانی محنت درکار ہوتی ہے جسے موجودہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی مکمل طور پر انجام نہیں دے سکتی۔
رپورٹ کے مطابق اب تک بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ جن شعبوں کو مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر ہونے والا قرار دیا جا رہا ہے وہاں بھی بے روزگاری کی شرح میں ابھی تک نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔
تاہم ابتدائی اشارے ضرور سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر 22 سے 25 سال عمر کے نوجوان ملازمین کی بھرتی بعض مصنوعی ذہانت سے متاثر ہونے والے شعبوں میں سست ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کمپنیاں ابتدائی سطح کے کاموں کے لیے بتدریج مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال بڑھا رہی ہیں جس سے مستقبل میں ملازمتوں کی منڈی کی سمت تبدیل ہو سکتی ہے۔





