بھارتی حصص بازار میں پیر 9 مارچ کو دباؤ کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ جمعہ کو گفٹ نفٹی میں تقریباً 300 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے بازار کے رجحان میں کمزوری ظاہر ہوئی۔ اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہفتے کے ابتدائی کاروباری دن میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
اس ہفتے بازار پر سب سے نمایاں اثر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر فوجی حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جمعہ کو امریکی خام تیل فیوچر تقریباً 12 فیصد بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ برینٹ خام تیل میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 92 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی نہیں آتی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ بعض ماہرین کا اندازہ ہے کہ قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ بھارت کے لیے یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ ملک اپنی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ مہنگے تیل کے اثرات براہِ راست بھارتی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
مہنگے تیل کے معیشت اور کمپنیوں پر اثرات
خام تیل مہنگا ہونے سے توانائی کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر کمپنیوں کی پیداواری لاگت پر پڑتا ہے جس سے منافع کے مارجن پر دباؤ آ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے رجحان کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ان عوامل کے باعث کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بازار کی کارکردگی
گزشتہ ہفتے بھارتی حصص بازار میں کمزوری کا رجحان دیکھا گیا۔ چار روزہ کاروباری ہفتے کے دوران سینسیکس اور نفٹی تقریباً 3 فیصد تک گر گئے۔ نفٹی 50 انڈیکس کے 50 حصص میں سے 41 حصص کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ یہ صورتِ حال بازار میں وسیع پیمانے پر کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے اور سرمایہ کار محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ تقریباً تمام شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس سے بازار کا مجموعی رجحان کمزور رہا۔
کرنسی بازار میں دباؤ
سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کرنے والے عوامل میں روپے کی کمزوری بھی شامل ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ روپے کی گراوٹ کے دوران غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کا اثر حصص بازار پر بھی پڑ رہا ہے۔ ان عوامل کے باعث پیر کے روز بازار کے آغاز سے قبل سرمایہ کار ان تمام عناصر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔ اگر سرمایہ کار حصص بازار میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو انہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور روپے کی کمزوری بازار کی سمت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کو کسی بھی قیاس آرائی سے قبل مکمل تحقیق کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔









