بھارتی روپیہ مضبوط امریکی ڈالر اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گیا

بھارتی روپیہ مضبوط امریکی ڈالر اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گیا

بھارتی روپیہ مضبوط امریکی ڈالر اور خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی، درآمدی بل اور تجارتی خسارے پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

پیر کے روز بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی ریکارڈ نچلی سطح پر آ گیا۔ عالمی منڈیوں میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کی طرف رجحان روپے پر دباؤ کا سبب بنا۔ کاروبار کے دوران روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 0.6 فیصد کم ہو کر 92.3350 تک پہنچ گیا۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے یہ 92.3025 کی سطح پر تھا جسے اس وقت تک کی کم ترین سطح سمجھا جا رہا تھا، تاہم پیر کو ہونے والی کمی نے اس ریکارڈ کو بھی عبور کر لیا۔

عالمی سطح پر بڑھتے جیو پولیٹیکل تناؤ نے مالیاتی منڈیوں میں تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کار خطرے والے بازاروں سے سرمایہ نکال کر محفوظ سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اس رجحان کے باعث ابھرتی معیشتوں کی کرنسیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور بھارتی روپیہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ

روپے پر دباؤ میں اضافے کی ایک اہم وجہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 26.4 فیصد بڑھ کر 117.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران اس کی قیمت تقریباً 116.4 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی۔

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جن کی معیشت بڑی حد تک درآمد شدہ توانائی پر منحصر ہے۔ بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں توانائی کی بڑی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

بھارت کے لیے تیل کی قیمتوں کی اہمیت

بھارت دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں بھارت کی معیشت کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔

جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو بھارت کا مجموعی درآمدی بل بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمتیں امریکی ڈالر میں طے کی جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں اگر روپیہ کمزور ہو جائے تو بھارت کو اتنی ہی مقدار میں خام تیل خریدنے کے لیے زیادہ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح تیل کی بلند قیمتیں اور کمزور روپیہ ملک پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔

تیل کی درآمدات میں اضافہ تجارتی خسارے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہوں تو ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے روپے پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو کرنسی منڈیوں میں فوری ردعمل دیکھنے میں آتا ہے۔

افراط زر پر ممکنہ اثرات

تیل کی بڑھتی قیمتیں اور روپے کی کمزوری کا بڑا اثر ملک میں افراط زر پر پڑ سکتا ہے۔ ایندھن کا استعمال تقریباً ہر شعبے میں ہوتا ہے۔ نقل و حمل، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین جیسے شعبوں میں ایندھن کی لاگت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جب خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مال برداری کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ جب تاجروں اور کمپنیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں تو وہ اکثر اس کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگر افراط زر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر عام شہریوں کی مالی حالت پر پڑ سکتا ہے۔ گھریلو اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور افراد کی قوت خرید کم ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے مجموعی معاشی نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

سرکاری مالیات پر ممکنہ دباؤ

خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومتی مالیاتی نظم و نسق کے لیے بھی چیلنج بن سکتا ہے۔ بھارت ہر سال توانائی کی درآمدات پر بڑی مقدار میں اخراجات کرتا ہے۔ جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مجموعی درآمدی بل بھی بڑھ جاتا ہے جس سے جاری کھاتے کے خسارے میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ روپے کی کمزوری کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہتا۔ بھارت کئی دیگر ضروری اشیاء بھی بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے جن میں کھاد، کیمیکل، الیکٹرانک آلات اور مشینری شامل ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی سے ان تمام اشیاء کی درآمدی لاگت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

Leave a comment