فرانس میں ہفتے کے مظاہروں سے قبل پولیس کی تعیناتی میں اضافہ، کئی شہروں میں پابندی

ہفتے کو ہونے والے مظاہروں سے قبل فرانس میں پولیس کی تعیناتی میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ کئی شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ ہجوم کو کنٹرول کرنے والے پولیس ہتھیاروں کے استعمال اور نوجوانوں کے زخمی ہونے کے واقعات پر بحث جاری ہے۔

فرانس میں ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے پیش نظر حکومت نے پولیس کی تعیناتی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس بار 20 فیصد زیادہ پولیس اہلکار ڈیوٹی پر ہوں گے۔ لیون اور مارسی سمیت کئی شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پیرس میں مارچ کرنے والوں کو شہر کے مشرقی علاقے تک جانے کی اجازت ہوگی۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر لوور اور میوزے د’اورسے جیسے معروف عجائب گھر بھی بند رہیں گے۔ اس کے باوجود بعض مظاہرہ کرنے والی تنظیموں نے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا ہے۔

نوجوانوں کے زخمی ہونے پر پولیس کارروائی پر سوالات

گزشتہ چند مظاہروں کے دوران متعدد نوعمر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جس کے باعث پولیس کی کارروائی پر ناراضی بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہفتہ کو مولہاؤس میں مظاہرے کے دوران 17 سالہ لڑکی کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ اسی طرح سینٹ ایٹین میں 17 سالہ لڑکے کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوا اور اسے کاٹنا پڑا۔ اسکولوں میں تالہ بندی اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی کئی نوجوان شدید زخمی ہوئے ہیں۔

زخمی نوعمر افراد کے اہل خانہ اور پولیس کارروائی پر تنقید کرنے والے افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہجوم کو قابو کرنے کے لیے ایسے ہتھیاروں کا استعمال کس حد تک جائز ہے۔ بعض تنظیموں نے فوم راؤنڈ فائر کرنے والے لانچرز، آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس میں 2018 کی ’ییلو ویسٹ‘ تحریک کے دوران بھی پولیس کی سخت کارروائی اور مظاہرین کے زخمی ہونے کے واقعات پر شدید تنازع سامنے آیا تھا۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار

فرانس میں فسادات یا بڑے مظاہروں کے دوران پولیس لاٹھیاں، آنسو گیس، تیز دھماکے والے گرینیڈز اور فوم کے گولے فائر کرنے والے لانچرز استعمال کرتی ہے۔ پولیس کی بعض ڈھالوں میں تیز روشنی پیدا کرنے والی لائٹس بھی نصب ہوتی ہیں، جن سے سامنے موجود افراد کو کچھ دیر کے لیے دیکھنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ ہجوم کو قابو کرنے کے لیے الیکٹرک اسٹن گن کے استعمال پر پابندی ہے۔

فرانسیسی قومی پولیس نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ ان ہتھیاروں کا مقصد کسی خطرے کا صورت حال کے مطابق جواب دینا ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں مختلف سطحوں پر اور خطرے کی شدت کے تناسب سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہتھیاروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے آلات کے غلط استعمال سے مستقل نقصان ہوسکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسی ماہ اسٹن گرینیڈز پر مستقل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق ان سے پیدا ہونے والا شدید دھماکا اور ان کے ٹکڑے لوگوں کی سماعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور سنگین چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ہدایات میں کم مہلک سمجھے جانے والے ہتھیاروں کے استعمال میں احتیاط پر زور دیا گیا ہے۔ ان میں کہا گیا ہے کہ جسم پر چوٹ پہنچانے والے پروجیکٹائلز کا استعمال صرف اس وقت ہونا چاہیے جب فوری خطرہ موجود ہو۔ سر، چہرے اور گردن کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بہت قریب سے یا اونچائی والی جگہ سے انہیں فائر کرنا بھی خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کی تربیت اور جواب دہی پر زور

برطانیہ میں قائم اومیگا ریسرچ فاؤنڈیشن کے ہتھیاروں کے ماہر نیل کارنی کے مطابق فوم راؤنڈ لانچر کو ربڑ کی گولیاں چلانے والی بندوقوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض حالات میں یہ بھی جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق مناسب تربیت اور واضح قواعد چوٹوں کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

کارنی نے اسپین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں کاتالونیا کے آزادی کے ریفرنڈم کے دوران پولیس کارروائی پر تنقید کے بعد ربڑ کی گولیاں چلانے والی بندوقوں کی جگہ فوم راؤنڈ لانچرز کا استعمال شروع کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد وہاں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ہتھیاروں کے ماہر پیٹرک ولکن نے کہا کہ فوم راؤنڈ لانچرز بنیادی طور پر فوجی تربیت اور بعد میں یرغمالی بحرانوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں جیسی زیادہ خطرے والی صورت حال کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق انہیں مظاہروں میں پولیسنگ کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔

جوابدہی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کارکنوں نے تجویز دی ہے کہ فوم راؤنڈز پر شناختی نمبر درج کیے جائیں، تاکہ کسی سنگین چوٹ کے واقعے میں استعمال ہونے والے ہتھیار اور متعلقہ افسر کی شناخت میں مدد مل سکے۔

فرانس کے پولیس نظام پر بھی بحث

فرانس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان فاصلہ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ داخلی سلامتی کے موضوع پر لکھنے والے مصنف ژاں میری گوڈارڈ کے مطابق 2000 کی دہائی کے آغاز میں فرانس نے مقامی برادریوں کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے والے پولیس نظام سے دور ہوکر خصوصی فسادات پر قابو پانے والے یونٹس پر زیادہ انحصار شروع کیا۔

انٹورپ یونیورسٹی کی ماہر عمرانیات لورا کیسمین نے فرانس، برطانیہ، نیدرلینڈز اور سویڈن کے پولیس نظاموں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی دیگر ممالک میں افسران مظاہرین کے ساتھ براہ راست بات چیت کرکے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فرانس میں پولیس کا طریقہ نسبتاً زیادہ سخت ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فرانس میں بعض مظاہرین کے گروہ جارحانہ اور پُرتشدد ہوسکتے ہیں۔

فرانس میں 2.5 لاکھ سے زیادہ قومی پولیس اہلکار اور جینڈرمیری کے اہلکار موجود ہیں۔ پولیس عام طور پر شہروں میں کام کرتی ہے، جبکہ جینڈرمیری کی ذمہ داری دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے ہفتہ کو ہونے والے تشدد میں 997 پولیس اہلکار اور جینڈرمیری کے اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سات کی حالت تشویش ناک تھی۔ پیرس میں پولیس نے 100 سے زیادہ مظاہرین اور مقامی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ اس روز ملک بھر میں تقریباً 2,400 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

فرانسیسی حکام حالیہ تشدد کا ذمہ دار بائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں کو قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ان گروہوں نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں اور عوامی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق بعض افراد نے بدامنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانوں میں لوٹ مار بھی کی۔ ہفتے کے مظاہروں سے قبل حکومت کو سکیورٹی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی کارروائی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

Leave a comment