گزشتہ ہفتے بین الاقوامی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ اب نئے کاروباری ہفتے پر مرکوز ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ ہفتے بھی قیمتی دھاتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مضبوط امریکی ڈالر، خام تیل کی بلند قیمتیں، شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور عالمی اقتصادی اعداد و شمار سونے اور چاندی کی قیمتوں کی سمت طے کرنے والے اہم عوامل رہ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکہ اور ایران کے تعلقات سے متعلق پیش رفت بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم رہے گی۔ اگرچہ اس نوعیت کی کشیدگی عام طور پر سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سہارا دے سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کی سمت صرف جغرافیائی سیاسی خطرات سے طے نہیں ہو رہی۔ مضبوط امریکی ڈالر اور امریکی مانیٹری پالیسی کی ممکنہ سمت بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
کموڈیٹی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ماہ کے اختتام پر ہونے والی امریکی فیڈرل ریزرو کی میٹنگ سے قبل سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ شرح سود سے متعلق فیڈ کا مؤقف سونے کی قیمتوں کے لیے اہم ہوگا۔ عام طور پر بلند شرح سود اور مضبوط امریکی ڈالر سونے جیسی غیر سودی اثاثہ جاتی سرمایہ کاری پر دباؤ ڈالتے ہیں، جبکہ اگر مارکیٹ میں شرح سود میں کمی کی توقعات مضبوط ہوتی ہیں تو سونے کی طلب بڑھ سکتی ہے۔
جے ایم فنانشل سروسز کے کموڈیٹی اور کرنسی ریسرچ سے وابستہ ماہر پرونَو میر کے مطابق فیڈ کی آئندہ میٹنگ سے قبل سونے میں کمزوری دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم مارکیٹ کی نظر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق پیش رفت پر بھی برقرار رہے گی۔
![]()
ملکی فیوچر مارکیٹ میں بھی گزشتہ ہفتے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمزوری دیکھی گئی۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (MCX) پر اگست ڈیلیوری والے سونے کے فیوچر کی قیمت تقریباً 2,572 روپے یعنی تقریباً 2 فیصد کمی کے ساتھ 1.40 لاکھ روپے فی 10 گرام پر بند ہوئی۔ اسی طرح ستمبر ڈیلیوری والی چاندی کے فیوچر کی قیمت تقریباً 6,261 روپے یعنی 2.8 فیصد گر کر 2.16 لاکھ روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔
قیمتی دھاتوں میں اس کمی کے بعد سرمایہ کار نئے کاروباری ہفتے میں مارکیٹ کی سمت کے حوالے سے محتاط ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عالمی اقتصادی اشاریے اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت قیمتوں کو کس سمت لے جاتی ہے۔
ایل کے پی سیکیورٹیز کے وائس پریزیڈنٹ اور کموڈیٹی و کرنسی ریسرچ اینالسٹ جتن ترویدی کے مطابق مضبوط امریکی ڈالر، خام تیل کی بلند قیمتیں اور طویل عرصے تک شرح سود بلند رہنے کے خدشات نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ ان کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر مارکیٹ میں فروخت دیکھی جا رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد تاجر نئی خریداری کے بجائے منافع وصولی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بھارتی مارکیٹ میں روپے کی معمولی مضبوطی بھی سونے کی قیمتوں کو خاطر خواہ سہارا فراہم نہیں کر سکی کیونکہ بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر کی برتری برقرار رہی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی گزشتہ ہفتے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ کامیکس پر سونے کے فیوچر کی قیمت تقریباً 95 ڈالر یعنی 2.3 فیصد گر کر 4,018.8 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔ اسی طرح نیویارک میں چاندی کی قیمت تقریباً 4 ڈالر یعنی 6.4 فیصد کمی کے ساتھ 56.32 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
گزشتہ ہفتے چاندی میں سونے کے مقابلے میں زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاندی کو سرمایہ کاری کی قیمتی دھات ہونے کے ساتھ ساتھ صنعتی دھات بھی سمجھا جاتا ہے۔ عالمی اقتصادی سرگرمیوں سے متعلق خدشات بڑھنے کی صورت میں صنعتی طلب سے متعلق اندازے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔









