لکھنؤ، گوسائی گنج جیل — ایک شام، طبیعت ناساز، اور الزامات لگائے گئے — جیل میں قید وشواس راجپوت نے گایتری پرساد پرجاپتی پر لوہے کی پٹڑی سے ہاتھ اور سر پر حملہ کر دیا۔
معاملہ کیا ہے؟
وشواس راجپوت، قتل کے ایک مقدمے میں جیل میں قید ہے، اور 2022 سے ہی اس کیس میں شامل ہے۔ ڈی آئی جی جیل ڈاکٹر رام دھنی کے مطابق، واقعہ کا آغاز تب ہوا جب سابق وزیر نے (بتایا جاتا ہے کہ) راجپوت کو گالیاں دی تھیں۔ جواب میں
راجپوت نے اسی جیل کمپلیکس میں نصب لوہے کی پٹڑی اٹھائی اور حملہ کر دیا۔ زخم سر اور ہاتھ پر ہیں۔ زخمی پائے گئے وزیر کو پہلے جیل کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا، پھر کے جی ایم یو ٹراما سینٹر لے جایا گیا۔ وہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ردعمل اور الزامات
خاتون ایم ایل اے اہلیہ (مہاراجی پرجاپتی) نے حکومت اور عدالت سے شوہر کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک سازش ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب جیل میں پانی کی بوتل لے جانا تک محدود ہے، تو حملہ کیسے ممکن ہوا — "چاقو کینچی" جیسی چیزیں جیل میں کیسے پہنچ گئیں؟ جیلر راجیش کمار کی رپورٹ کی بنیاد پر گوسائی گنج تھانے میں اس واقعے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی سازش نظر نہیں آئی ہے، یہ ایک "اتفاقی واقعہ" ہو سکتا ہے۔ محکمانہ تحقیقات جاری ہیں۔






