بھارتی شیئر بازار مسلسل پانچویں روز گراوٹ کا شکار سینسیکس 332 پوائنٹس نیچے نفٹی 23800 سے کم پر بند

بھارتی شیئر بازار جمعہ کو مسلسل پانچویں تجارتی دن گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ BSE سینسیکس 332 پوائنٹس گر کر 76,059.77 پر اور NSE نفٹی 23,767.45 پر بند ہوا۔ عالمی بازاروں کی کمزوری، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث بازار میں فروخت

بھارتی شیئر بازار جمعہ کو مسلسل پانچویں تجارتی سیشن میں بھی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ مقامی بازار میں پورے دن فروخت کا دباؤ برقرار رہا، جس کے باعث اہم اشاریے منفی سطح پر بند ہوئے۔ سینسیکس 300 سے زائد پوائنٹس گر گیا جبکہ نفٹی بھی اہم 23,800 کی سطح سے نیچے بند ہوا۔ عالمی بازاروں کے کمزور رجحان، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔

کاروبار کے اختتام پر BSE سینسیکس 332 پوائنٹس یا تقریباً 0.43 فیصد کی کمی کے ساتھ 76,059.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح NSE نفٹی 102 پوائنٹس یا 0.43 فیصد گر کر 23,767.45 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس کے ساتھ ہی بازار مسلسل پانچویں تجارتی دن بھی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔

ہفتہ وار کارکردگی پر نظر ڈالیں تو بھارتی شیئر بازار کے لیے یہ ہفتہ دباؤ میں رہا۔ پانچ تجارتی سیشنز کے دوران سینسیکس میں تقریباً 2,100 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نفٹی میں تقریباً 2.3 فیصد کی گراوٹ آئی۔ بازار کی کمزوری صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئرز میں بھی فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا۔ جمعہ کو نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس تقریباً 0.10 فیصد اور نفٹی اسمال کیپ 100 انڈیکس تقریباً 0.32 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔

نفٹی 50 انڈیکس میں شامل 50 کمپنیوں میں سے 36 شیئرز گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ Eternal، Bajaj Finance اور Mahindra & Mahindra نمایاں طور پر کمزور رہنے والے شیئرز میں شامل تھے۔ دوسری جانب HCL Technologies، Cipla اور Wipro کے شیئرز اضافہ کے ساتھ بند ہوئے۔ تاہم، ان کمپنیوں میں خریداری کے باوجود مجموعی بازار میں فروخت کے دباؤ کو مکمل طور پر کم نہیں کیا جا سکا۔

شعبہ جاتی کارکردگی میں Nifty Auto Index سب سے زیادہ دباؤ میں رہا اور تقریباً 1.10 فیصد گر گیا۔ اس کے علاوہ میٹل، ریئلٹی اور آئل اینڈ گیس شعبوں کے شیئرز میں بھی فروخت کا رجحان برقرار رہا۔ تاہم آئی ٹی، PSU بینک اور میڈیا سے متعلق شیئرز میں خریداری دیکھنے میں آئی، جس سے مجموعی بازار کی گراوٹ کسی حد تک محدود رہی۔

جمعہ کی گراوٹ کے پیچھے کئی عالمی اور مقامی عوامل بتائے جا رہے ہیں۔ ان میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نمایاں وجہ رہا۔ Brent Crude کے 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کے بعد بھارت جیسے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مہنگا خام تیل درآمدی بل پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی سے متعلق خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے رجحان پر اثر پڑا اور بازار میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔

جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور عالمی تجارت سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بازار میں خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی بانڈ ییلڈ میں اضافے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بازاروں سے سرمایہ نکالنے کے خدشات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ مختلف ممالک پر امریکہ کی جانب سے ممکنہ یا اعلان شدہ ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی بازار کے رجحان کو متاثر کیا۔

Leave a comment