بھارتی شیئر بازار مسلسل تیسرے دن گرا سینسیکس 715 پوائنٹس نیچے اور نفٹی 24000 سے کم پر بند

کمزور عالمی اشاروں، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، روپے کی کمزوری اور امریکی ٹیرف پالیسی سے متعلق خدشات کے درمیان بھارتی شیئر بازار مسلسل تیسرے کاروباری دن بھی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ سینسیکس 715.06 پوائنٹس نیچے آیا جبکہ نفٹی 24,000 کی سطح سے نیچے بند ہوا۔

اشاروں، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بھارتی روپے کی کمزوری اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف اعلان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔

بدھ کے روز گھریلو بینچ مارک انڈیکس سینسیکس اور نفٹی نمایاں گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ عالمی منڈیوں سے ملنے والے کمزور اشاروں، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، روپے کی کمزوری اور امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش نے سرمایہ کاروں کے رجحان پر دباؤ ڈالا۔

گزشتہ تین کاروباری دنوں کے دوران سینسیکس تقریباً 1,500 پوائنٹس گر چکا ہے، جبکہ نفٹی 50 اہم 24,000 کی سطح سے نیچے آ گیا ہے۔ مسلسل گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھی ہے اور مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

بدھ کے کاروبار کے اختتام پر BSE Sensex 715.06 پوائنٹس یا تقریباً 0.92 فیصد گر کر 76,755.05 کی سطح پر بند ہوا۔ اسی طرح NSE Nifty 50 میں 191.45 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 23,996.25 پر بند ہوا۔ کاروبار کے دوران 2,600 سے زائد شیئرز گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے، جبکہ تقریباً 1,400 شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف چند مخصوص شیئرز ہی نہیں بلکہ مجموعی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروں نے خطرات کم کرنے کی کوشش کی۔

سیکٹورل کارکردگی کے لحاظ سے بدھ کو کئی اہم شعبوں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ Nifty Media Index تقریباً 2.7 فیصد اور Realty Index تقریباً 2.6 فیصد گر گیا۔ اس کے علاوہ PSU Bank Index میں تقریباً 1.8 فیصد، Private Bank Index میں تقریباً 1.4 فیصد اور IT Index میں تقریباً 1.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ فارما شیئرز پر بھی دباؤ برقرار رہا۔

مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئرز میں بھی سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت دیکھی گئی۔ تاہم FMCG اور Auto شعبوں میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی، جس سے مارکیٹ کو محدود سہارا ملا۔

نفٹی کے نمایاں گراوٹ والے شیئرز میں InterGlobe Aviation (IndiGo)، Jio Financial Services، Infosys، State Bank of India (SBI) اور Dr. Reddy's Laboratories شامل رہے۔ دوسری جانب Bajaj Auto، Nestle India، Tata Consumer Products، Power Grid Corporation اور ONGC کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم ان شیئرز کی بڑھوتری وسیع پیمانے پر جاری فروخت کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی۔

مارکیٹ میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ Brent Crude کی قیمت تقریباً 95 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے بھارتی معیشت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ ایسے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے درآمدی بل، مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

اسی دوران بھارتی روپیہ بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو کر تقریباً 96.36 کی سطح تک پہنچ گیا۔ کمزور کرنسی اور مہنگے خام تیل کا امتزاج سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

امریکہ کی تجارتی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی بھارتی مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے رجحان کو متاثر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمد شدہ جنیرک ادویات پر ممکنہ طور پر زیادہ ٹیرف عائد کیے جانے کی خبروں کے بعد بھارتی فارما کمپنیوں کے شیئرز پر دباؤ دیکھا گیا۔ بھارت کی فارماسیوٹیکل صنعت امریکی مارکیٹ پر نمایاں حد تک انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں ٹیرف میں اضافے کے خدشات کے باعث Sun Pharma، Cipla اور Dr. Reddy's Laboratories کے شیئرز میں فروخت بڑھ گئی۔

Leave a comment