ISRO کا GSLV-F18 لانچ کامیاب، NVS-03 سیٹلائٹ مقررہ مدار میں پہنچ گیا

ISRO نے GSLV-F18 راکٹ کے ذریعے NVS-03 نیویگیشن سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیا۔ چار مرتبہ مدار تبدیل کرنے کے بعد سیٹلائٹ مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچ گیا۔

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (ISRO) نے GSLV-F18 راکٹ کے ذریعے NVS-03 نیویگیشن سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا ہے۔ سیٹلائٹ کو مقررہ ٹرانسفر مدار میں پہنچا دیا گیا ہے۔ ستمبر کے بعد GSLV راکٹ کی یہ مسلسل دوسری کامیاب پرواز ہے۔ اس کامیابی سے بھارت کے مقامی نیویگیشن نظام NavIC کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

دو ماہ میں GSLV کی دوسری کامیاب پرواز

30 اکتوبر 2026 کی رات 11 بج کر 51 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے GSLV-F18 راکٹ لانچ کیا گیا۔ راکٹ نے تقریباً 2,250 کلوگرام وزنی NVS-03 نیویگیشن سیٹلائٹ کو مقررہ ٹرانسفر مدار میں پہنچایا۔

اس سے قبل 4 ستمبر 2026 کو GSLV-F17 راکٹ نے EOS-05 سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ اس کے مقررہ مدار میں پہنچایا تھا۔ دونوں لانچ کے درمیان صرف 56 دن کا وقفہ تھا۔

GSLV-F18 اس راکٹ سیریز کی 20ویں پرواز تھی۔ مسلسل دو کامیاب لانچ کے ذریعے GSLV راکٹ کی مدد سے باقاعدہ خلائی مشن مکمل کرنے کی ISRO کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔ اس کامیابی میں ISRO کے سائنس دانوں کے ساتھ راکٹ اور سیٹلائٹ کی تیاری سے وابستہ بھارتی کمپنیوں کا بھی اہم کردار رہا ہے۔

سابقہ تکنیکی مسائل کے بعد کامیابی

گزشتہ چند خلائی مشن کے دوران ISRO کو تکنیکی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جنوری 2025 میں NVS-02 سیٹلائٹ کا لانچ کامیاب رہا تھا، لیکن اس کے انجن سسٹم میں خرابی پیدا ہونے کے باعث اسے مقررہ آخری مدار میں پہنچانا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

اسی طرح مئی 2025 میں PSLV-C61 مشن بھی مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے بعد جنوری 2026 میں PSLV-C62 مشن کے دوران راکٹ کے تیسرے مرحلے کے اختتام پر تکنیکی خرابی سامنے آئی تھی۔

NVS-03 سیٹلائٹ سے بھارت کو کیا فائدہ ہوگا؟

NVS-03 بھارت کے نئی نسل کے پانچ نیویگیشن سیٹلائٹس کی مجوزہ سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اسے ملک کے مقامی نیویگیشن نظام NavIC کی خدمات کو بہتر بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

NavIC کے ذریعے بھارت اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مقام کی نشاندہی اور نیویگیشن سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس نظام کو ٹرانسپورٹ، سمندری جہازوں کی نقل و حرکت، مقام پر مبنی خدمات اور دیگر شہری ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

NVS-03 میں بھارتی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ایٹمی گھڑی نصب کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں L1 سگنل کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ یہ پہلے سے موجود L5 اور S-Band سگنلز کے ساتھ کام کرے گا۔

اس سیٹلائٹ کی کوریج بھارت کی سرزمین اور ملک کی سرحدوں سے تقریباً 1,500 کلومیٹر تک پھیلے آس پاس کے علاقوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے مستقبل میں NavIC کی خدمات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

چار مرتبہ مدار تبدیل کرنے کے بعد ایک اور کامیابی

لانچ کے بعد ISRO کے سائنس دانوں نے NVS-03 کو مقررہ بلندی تک پہنچانے کے لیے چار مرتبہ مدار میں تبدیلی کی۔ خلائی ادارے نے 4 نومبر کو اطلاع دی کہ یہ چاروں مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں۔

اس کے بعد سیٹلائٹ تقریباً 35,765 کلومیٹر سے 36,196 کلومیٹر کے درمیان واقع جیو سنکرونس مدار میں پہنچ گیا۔ ISRO کے مطابق سیٹلائٹ کی حالت معمول کے مطابق ہے۔

تاہم، مقررہ مدار میں پہنچنا اور تمام نیویگیشن خدمات کا باقاعدہ طور پر شروع ہونا دو الگ مراحل ہیں۔ اس کے لیے سیٹلائٹ کے آلات اور سگنلز کی جانچ بھی ضروری ہوتی ہے۔

اب سیٹلائٹ کے آلات کی جانچ پر توجہ

GSLV-F18 کی کامیابی صرف ایک راکٹ لانچ تک محدود نہیں ہے۔ بھارت اپنے نیویگیشن نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ خلائی ٹیکنالوجی میں مقامی صلاحیتوں کو بھی وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

مسلسل دو GSLV مشن کامیاب ہونے سے ISRO اور اس کے صنعتی شراکت داروں کو آئندہ تیاریوں میں مدد ملے گی۔ اب NVS-03 کے آلات کی جانچ اور NavIC نظام میں اس کے مکمل طور پر فعال کردار پر توجہ مرکوز رہے گی۔

Leave a comment