اسرو کا نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-03 کامیابی سے مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچ گیا

اسرو کا NVS-03 نیویگیشن سیٹلائٹ چار مدار کی تبدیلیوں کے بعد مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچ گیا۔ جانیں NavIC نظام، اس کی تکنیکی خصوصیات اور اگلے مراحل کی تفصیلات۔

 

اسرو کا نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-03 مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچ گیا

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-03 کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچ گیا ہے۔ اسرو نے بدھ، 4 نومبر 2026 کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ سیٹلائٹ کو مدار میں مطلوبہ مقام تک پہنچانے کے لیے چار مدار کی بلندی اور تبدیلی سے متعلق کارروائیاں کامیابی سے مکمل کی گئیں۔ اس دوران اس کے لیکوئڈ اپوجی موٹر (LAM) انجن کو مجموعی طور پر 6,164 سیکنڈ تک چلایا گیا۔

اسرو کے مطابق، سیٹلائٹ اب 35,765 کلومیٹر سے 36,196 کلومیٹر کی بلندی والے مدار میں موجود ہے اور اس کے مدار کا جھکاؤ 29.98 ڈگری ہے۔ سیٹلائٹ کے تمام ضروری نظام معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

NVS-03 کو 30 اکتوبر 2026 کو رات 11 بج کر 51 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے GSLV-F18 راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ لانچ کے بعد سیٹلائٹ کو 170.3 کلومیٹر سے 38,080 کلومیٹر کی بلندی والے ابتدائی مدار میں داخل کیا گیا تھا۔

مدار میں پہلی تبدیلی 31 اکتوبر کو کی گئی، جس کے دوران انجن کو 2,174.8 سیکنڈ تک چلایا گیا۔ اس کے بعد مدار کو مطلوبہ مقام تک پہنچانے کے لیے مزید تین کارروائیاں مکمل کی گئیں۔ GSLV-F18، GSLV سیریز کی 20ویں پرواز تھی۔

NVS-03 بھارت کے مقامی نیویگیشن نظام NavIC (Navigation with Indian Constellation) کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیے گئے سیٹلائٹس میں شامل ہے۔ یہ نظام صارفین کو مقام، سمت اور وقت سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے اور اسے امریکہ کے GPS کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے استعمال میں سڑکوں پر نیویگیشن، سمندری نقل و حرکت، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات شامل ہیں۔

NVS-03 نئی سیریز کے پانچ نیویگیشن سیٹلائٹس میں تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اس سیریز کا مقصد موجودہ NavIC نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانا اور اس کی خدمات کو جاری رکھنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے بھارت اور اس کی سرحدوں سے تقریباً 1,500 کلومیٹر تک کے علاقوں میں نیویگیشن خدمات فراہم کرنے کا ہدف ہے۔

NVS-03 میں L1، L5 اور S-band فریکوئنسی بینڈز پر سگنل فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ L1 بینڈ کی شمولیت سے NavIC کو مختلف اقسام کے نیویگیشن آلات میں استعمال کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

سیٹلائٹ میں بھارت میں تیار کردہ ایٹمی گھڑی کے ساتھ درآمد شدہ ایٹمی گھڑیاں بھی نصب ہیں۔ نیویگیشن نظام میں درست وقت کی پیمائش بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ زمینی آلات انہی وقت کے سگنلز کی مدد سے صارف کی درست جگہ کا تعین کرتے ہیں۔

اس سے قبل NVS-02 کو 29 جنوری 2025 کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس سیٹلائٹ کو ابتدائی مدار میں کامیابی سے داخل کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے مدار کی بلندی بڑھانے کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ انجن سے منسلک آکسیڈائزر والوز نہ کھلنے کے باعث مدار میں تبدیلی کی کارروائی ناکام رہی تھی۔

NVS-03 کا مقررہ مدار میں پہنچنا ایک اہم تکنیکی کامیابی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیویگیشن خدمات فوری طور پر شروع ہو گئی ہیں۔ خدمات کے آغاز سے پہلے سیٹلائٹ کے ضروری تکنیکی معائنے اور دیگر جانچ کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔

 

Leave a comment