ناروے کی حکومت نے پہلی سے ساتویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے کلاس رومز میں جنریٹو اے آئی ٹولز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قانون ستمبر 2026 سے نافذ ہوگا اور اس کا مقصد بچوں کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کا تحفظ کرنا ہے۔
بچوں میں بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے تعلیم پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ناروے کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ابتدائی عمر میں بچوں کو پڑھنے، لکھنے، ریاضی اور دیگر بنیادی مہارتیں خود سیکھنی اور ترقی دینی چاہئیں، اس لیے اسکولوں میں جنریٹو مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹولز تک رسائی محدود کی جائے گی۔
ستمبر 2026 سے نیا قانون نافذ
ناروے کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلی سے ساتویں جماعت تک کے طلبہ کو اسکولوں میں جنریٹو اے آئی ٹولز تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ یہ قانون ستمبر 2026 سے مؤثر ہوگا۔ عام طور پر ان جماعتوں میں زیر تعلیم بچوں کی عمر 13 سال سے کم ہوتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی تعلیم میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ابتدائی عمر میں بچوں کو پڑھنے، لکھنے، ریاضی اور دیگر بنیادی مہارتیں خود حاصل کرنی چاہئیں۔ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار ان کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
بنیادی تعلیمی مہارتوں کے تحفظ پر زور
ناروے کے تعلیمی ماہرین اور پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی نشوونما کے ابتدائی مرحلے میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کی تعمیر انتہائی اہم ہے۔ اگر طلبہ ہر سوال کا جواب اے آئی سے حاصل کرنے لگیں تو ان کی خود سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
حکومت نے اپنے فیصلے کے حق میں متعدد تحقیقی مطالعات کا حوالہ دیا ہے۔ ان مطالعات کے مطابق کم عمر بچوں کی جانب سے جنریٹو اے آئی کا غیر محدود استعمال سیکھنے کے اہم مراحل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس عمر کے بچوں میں اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات کی درستگی اور معیار کا جائزہ لینے کی صلاحیت بھی مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتی۔
13 سال سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے محدود اجازت
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی صرف 13 سال سے کم عمر کے طلبہ پر لاگو ہوگی۔ اس سے زیادہ عمر کے طلبہ اے آئی ٹولز استعمال کر سکیں گے، تاہم ان کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی۔ اسکولوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اے آئی کا استعمال صرف تعلیمی معاونت کے لیے ہو اور طلبہ اس پر مکمل طور پر انحصار نہ کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی اے آئی ٹیکنالوجی اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ طلبہ کی درست رہنمائی کر سکیں۔
سوشل میڈیا پر بھی مزید سختی کا امکان
ناروے پہلے ہی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر سخت قواعد نافذ کر چکا ہے۔ اب حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اضافی پابندیوں کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اے آئی پر مبنی خدمات صارفین کو طویل عرصے تک مصروف رکھنے کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہیں، جس کے اثرات بچوں کی ذہنی صحت، توجہ اور سماجی رویوں پر پڑ سکتے ہیں۔
کینیڈا بھی اسی نوعیت کے ضوابط پر غور کر رہا ہے
ناروے کے اس اقدام کے بعد کینیڈا میں بھی بچوں کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں۔ وہاں کی حکومت نئے قانون کے ذریعے بچوں کی آن لائن حفاظت اور ذہنی صحت کو ترجیح دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں متعدد ممالک بچوں کے لیے اے آئی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق نئے رہنما اصول اور ضوابط نافذ کر سکتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کیے جا سکیں اور اس کے ممکنہ منفی اثرات سے بھی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔







