چین کی نیشنل پیپلز کانگریس نے 28 اگست کو قومی دفاعی متحرک کاری کے قانون میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ترمیم شدہ قانون یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا۔ نئی دفعات کے تحت جنگ یا سنگین قومی بحران کی صورت میں حکومت فوجی وسائل کے ساتھ ساتھ شہری شعبے کی صلاحیت، نجی کمپنیوں اور ضروری خدمات کو بھی قومی دفاعی متحرک کاری میں شامل کر سکے گی۔
قومی دفاعی متحرک کاری کے قانون میں وسیع ترامیم
چین کا قومی دفاعی متحرک کاری کا قانون 2010 میں نافذ کیا گیا تھا۔ تقریباً 16 سال بعد اس میں وسیع پیمانے پر ترمیم کی گئی ہے۔ ترمیم شدہ قانون میں 14 ابواب اور 82 دفعات ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد قومی بحران کی صورت میں چین کی فوجی اور شہری صلاحیتوں کو ایک ساتھ فعال کرنے کے لیے نظام تیار کرنا ہے۔
چینی حکومت کے مطابق، نئی دفعات ملک کو معمول کے حالات سے ہنگامی یا جنگ جیسی صورت حال میں تیزی سے منتقل ہونے میں مدد دیں گی۔ اس کے لیے اقتصادی، صنعتی، تکنیکی اور سماجی وسائل کو قومی دفاع کی ضروریات کے مطابق استعمال کرنے کا نظام بنایا گیا ہے۔
ترمیم شدہ قانون میں چین کی خودمختاری، قومی اتحاد، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ ساتھ اس کے ترقیاتی مفادات کے تحفظ کو بھی قومی دفاعی متحرک کاری کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
نجی کمپنیوں اور شہری وسائل تک حکومت کی رسائی
نئے قانون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ قومی دفاع کی ضرورت پڑنے پر حکومت شہری شعبے کے وسائل استعمال کر سکے گی۔ اس میں نجی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ نقل و حمل، مواصلات، طبی خدمات، خوراک کی فراہمی اور تکنیکی شعبے شامل ہیں۔
ضرورت پڑنے پر بعض وسائل کو حکومت کے کنٹرول میں لینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مقررہ احکامات پر عمل نہ کرنے یا جان بوجھ کر تاخیر کرنے پر متعلقہ اداروں یا افراد کے خلاف کارروائی اور مالی جرمانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ قومی بحران کے دوران چین کا دفاعی نظام صرف پیپلز لبریشن آرمی تک محدود نہیں رہے گا۔ شہری معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو بھی متحرک کاری کے نظام کا حصہ بنایا جا سکے گا۔
نقل و حمل، اسپتال اور انٹرنیٹ کے شعبوں کی تیاری
ترمیم شدہ قانون میں کئی ایسے شعبے شامل کیے گئے ہیں جو معمول کے حالات میں شہری زندگی اور معیشت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ نقل و حمل، ڈاک کی خدمات، ٹیلی کمیونیکیشن، سائبر سکیورٹی، طبی نظام، ادویات کی فراہمی، خوراک اور اناج کی تقسیم اور انجینئرنگ خدمات کو قومی دفاع سے متعلق ذمہ داریوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
ان شعبوں سے وابستہ اداروں کو خصوصی ٹیمیں اور متعلقہ صلاحیتیں تیار کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ ملازمین کو ضروری تربیت دینا اور بحران کے وقت تیزی سے کام شروع کرنے کا نظام بھی اس کا حصہ ہے۔
سائبر سکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ چین نے گزشتہ چند برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیت، ڈرونز، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ نئے قانون میں تکنیکی ترقی کے ذریعے دفاعی صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی کے کردار کو واضح کیا گیا
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن سے وابستہ چین کی دفاعی پالیسی کی ماہر سمانتھا ہافمین کے جائزے کے مطابق، ترمیم شدہ دفعات پارٹی قیادت، تنظیمی ڈھانچے، ریزرو فورسز، بھرتی، اسٹریٹجک ذخائر اور دفاعی تعلیم جیسے شعبوں کو متاثر کرتی ہیں۔
قانون کی بعض دفعات میں قومی دفاعی متحرک کاری کے نظام کو کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی قیادت سے منسلک کیا گیا ہے۔
ترقیاتی مفادات کو بھی قومی سلامتی سے جوڑا گیا
نئے قانون میں ترقیاتی مفادات کو شامل کرنا بھی ایک اہم تبدیلی ہے۔ پرانے قانون میں بنیادی طور پر خودمختاری، قومی اتحاد، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ پر زور دیا گیا تھا۔
اب اقتصادی اور ترقیاتی مفادات بھی وسیع تر قومی دفاعی تصور کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس کا دائرہ چین کی معیشت، اسٹریٹجک وسائل، تکنیکی صلاحیتوں اور بیرون ملک موجود اقتصادی مفادات تک بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی چین کے قومی سلامتی سے متعلق قوانین میں ہونے والی وسیع تر تبدیلیوں کے مطابق ہے۔ 2020 میں ترمیم شدہ قومی دفاعی قانون میں بھی ترقیاتی مفادات کے تحفظ کو قومی دفاع سے جوڑا گیا تھا۔
بیرون ملک موجود چینی شہریوں اور کمپنیوں پر ممکنہ اثرات
چین کے بعض سلامتی اور قومی مفادات سے متعلق قوانین کا دائرہ ملک کی سرحدوں سے باہر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ترمیم شدہ دفاعی متحرک کاری کے قانون کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بیرون ملک مقیم چینی شہریوں اور کمپنیوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں چین نے قومی سلامتی سے متعلق قوانین کو مضبوط کیا ہے اور بعض معاملات میں بیرون ملک کی جانے والی سرگرمیوں کو بھی قانونی دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے نتیجے میں چین کی سلامتی پالیسی پر مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے خدشات بڑھے ہیں۔
تاہم، کسی مخصوص فرد یا سرگرمی پر نئے دفاعی متحرک کاری کے قانون کا استعمال کس طرح کیا جائے گا، یہ قانون کے نفاذ اور متعلقہ قواعد کی تشریح پر منحصر ہوگا۔
چین کی جنگی تیاری پر ماہرین کی مختلف آرا
ترمیم سامنے آنے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا چین ممکنہ جنگ کے لیے اپنی تیاری تیز کر رہا ہے۔ اس معاملے پر ماہرین کی رائے یکساں نہیں ہے۔
برسلز میں قائم سینٹر فار رشیا یورپ ایشیا اسٹڈیز کی ڈائریکٹر تھیریسا فیلن نے اس تبدیلی کو عالمی سلامتی کے ماحول کے تناظر میں تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس–یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور امریکی فوجی وسائل پر دباؤ جیسی صورت حال چین کے اسٹریٹجک جائزے کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے لائل مورس کا جائزہ ہے کہ نئے قانون کو چین کی اچانک شروع ہونے والی جنگی تیاری کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، بیجنگ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے قومی سلامتی اور فوجی–سماجی متحرک کاری کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔
اس لیے قانون میں تبدیلی کو چین کی طویل مدتی اسٹریٹجک تیاری کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ چین مستقبل قریب میں جنگ شروع کرنے والا ہے۔
تائیوان اور امریکا پر نظر
چین کی فوجی اور سلامتی پالیسی پر بحث میں تائیوان اور امریکا اہم موضوعات ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ تائیوان خود ایک الگ سیاسی نظام کے تحت چلتا ہے۔ امریکا تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ اسٹریٹجک اور سلامتی سے متعلق کشیدگی میں رہا ہے۔
اسی وجہ سے چین کی فوجی متحرک کاری، ریزرو فورس، اسٹریٹجک ذخائر، سائبر سکیورٹی اور شہری وسائل کو دفاعی نظام سے جوڑنے جیسے اقدامات پر بین الاقوامی سطح پر نظر رکھی جاتی ہے۔
نیا قانون چین کو کسی بڑے بحران کے دوران فوجی اور شہری صلاحیتوں کو ایک ساتھ استعمال کرنے کے لیے زیادہ وسیع قانونی ڈھانچہ فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا اثر صرف فوج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نقل و حمل، صحت، مواصلات، خوراک کی فراہمی، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے تک پھیل سکتا ہے۔
چین کی بدلتی ہوئی قومی سلامتی پالیسی
مجموعی طور پر، قومی دفاعی متحرک کاری کے قانون میں ترمیم چین کی سلامتی پالیسی کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے۔ بیجنگ اب قومی دفاع کو صرف فوجی طاقت کا معاملہ نہیں سمجھ رہا بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، سائبر شعبے، صنعت، صحت کی خدمات اور شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی اس میں شامل کر رہا ہے۔
نئے قانون کا حقیقی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہنگامی صورت حال یا جنگ کے دوران چینی حکومت ان اختیارات کو کس سطح پر اور کس طریقے سے استعمال کرتی ہے۔ فی الحال، اس تبدیلی کو چین کی طویل مدتی قومی سلامتی اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط کرنے کی سمت میں اٹھایا گیا قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے فوری جنگ کے اعلان یا کسی مخصوص فوجی کارروائی کے ثبوت کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔








