جیو کے 5G صارفین 26.8 کروڑ سے تجاوز کر گئے، 2030 تک مکمل 5G کوریج اور LEO سیٹلائٹ نیٹ ورک کا ہدف

جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی کے 5G صارفین کی تعداد 26.8 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ کمپنی 2030 تک تمام صارفین کو 5G سروسز سے جوڑنے، LEO سیٹلائٹ نیٹ ورک تیار کرنے، جیو ایئر فائبر کو وسعت دینے اور AI پر مبنی ڈیجی

ریلائنس انڈسٹریز کی 49ویں سالانہ جنرل میٹنگ (AGM) میں جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے کمپنی کی ڈیجیٹل حکمتِ عملی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے کئی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ جیو کے 5G صارفین کی تعداد 26.8 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور کمپنی کا ہدف سال 2030 تک اپنے تمام صارفین کو 5G نیٹ ورک سے منسلک کرنا ہے۔

آکاش امبانی کے مطابق جیو کا 5G نیٹ ورک چین کے باہر کسی ایک ٹیلی کام آپریٹر کی جانب سے چلایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا 5G نیٹ ورک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کمپنی نے 7.7 کروڑ نئے 5G صارفین شامل کیے ہیں۔ جیو کا مقصد ملک بھر میں تیز رفتار ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے لیے اپنے پورے صارفین کے نیٹ ورک کو 2030 تک 5G سروسز سے جوڑنا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران آکاش امبانی نے جیو کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی بھارت کے لیے اپنا لو ارتھ آربٹ (LEO) سیٹلائٹ نیٹ ورک تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک بھی انٹرنیٹ سروسز پہنچائی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا، "جیو نے بھارت کو زمین پر انٹرنیٹ سے جوڑ دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کو آسمان سے جوڑا جائے۔"

کمپنی کے مطابق یہ اقدام ان علاقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں روایتی فائبر یا موبائل نیٹ ورک پہنچانا مشکل ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں ڈیجیٹل خدمات کی رسائی بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کو جلد شروع کرنے کے لیے جیو عالمی سیٹلائٹ کمپنیوں سے اسپیس کیپیسٹی کرائے پر لے رہی ہے۔ اس سے ابتدائی مرحلے میں سروسز کے دائرہ کار کو تیزی سے وسعت دی جا سکے گی، جبکہ کمپنی بیک وقت اپنا مقامی سیٹلائٹ انفراسٹرکچر بھی تیار کر رہی ہے۔

جیو بھارت میں اپنا گراؤنڈ اسٹیشن نیٹ ورک بھی قائم کر رہی ہے، جو سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے آپریشن میں اہم کردار ادا کرے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواصلات کے شعبے میں بھارت کی خود انحصاری کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

آکاش امبانی نے جیو ایئر فائبر کی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سروس اب تک 1.3 کروڑ گھروں تک پہنچ چکی ہے اور روزانہ تقریباً 60 ہزار نئے کنکشن شامل کیے جا رہے ہیں۔ جیو کا مقصد ایئر فائبر کے ذریعے ان علاقوں میں بھی تیز رفتار ہوم براڈبینڈ فراہم کرنا ہے جہاں فائبر نیٹ ورک بچھانا مشکل یا مہنگا ہے۔ کمپنی ملک کے ہر حصے تک قابلِ اعتماد براڈبینڈ انٹرنیٹ پہنچانے کے ہدف پر بھی کام کر رہی ہے۔

جیو نے مصنوعی ذہانت (AI) کو اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو قرار دیا ہے۔ آکاش امبانی کے مطابق کمپنی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سروسز میں AI ٹیکنالوجی کو شامل کر رہی ہے تاکہ صارفین کو زیادہ ذہین، ذاتی نوعیت اور آسان تجربات فراہم کیے جا سکیں۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ AI پر مبنی سروسز ڈیجیٹل تفریح، مواصلات، اسمارٹ ہوم اور کاروباری حل کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

جیو کی نئی حکمتِ عملی صرف 5G توسیع تک محدود نہیں ہے۔ کمپنی فائبر براڈبینڈ، وائرلیس کنیکٹیویٹی، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ایک جامع ڈیجیٹل ایکو سسٹم تیار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ 26.8 کروڑ 5G صارفین، تیزی سے پھیلتے ایئر فائبر نیٹ ورک اور مجوزہ LEO سیٹلائٹ سسٹم کے ساتھ جیو نے بھارت کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو مزید وسعت دینے کے منصوبے پیش کیے ہیں۔

Leave a comment