بھارت دنیا کی سب سے بڑی اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کی معیشت میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت عالمی اقتصادی طاقتوں میں ایک اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس کے باوجود، عالمی پاسپورٹ طاقت اور بین الاقوامی سفری آزادی کے حوالے سے بھارتی پاسپورٹ ابھی تک دنیا کے 50 طاقتور ترین پاسپورٹس میں شامل نہیں ہو سکا ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے مطابق بھارت 80ویں نمبر پر ہے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے، جب بھارت 85ویں نمبر پر تھا۔ تاہم، بھارت اب بھی ان ممالک سے کافی پیچھے ہے جن کے شہری دنیا کے بیشتر ممالک میں ویزا فری یا آسان داخلے کی سہولت سے مستفید ہوتے ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا کے 199 پاسپورٹس اور 227 سفری مقامات کا جائزہ لیتا ہے۔ کسی ملک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ اس کے شہری کتنے ممالک میں پیشگی ویزا کے بغیر، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔
فی الوقت بھارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو 56 ممالک میں نسبتاً آسان داخلے کی سہولت حاصل ہے۔ تاہم تقریباً 170 ممالک کے لیے پہلے سے ویزا حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی طاقت کے باوجود بھارت کی پاسپورٹ درجہ بندی نسبتاً نچلی سطح پر برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) یا معیشت کا حجم براہِ راست اس کے پاسپورٹ کی طاقت کا تعین نہیں کرتا۔ پاسپورٹ کی طاقت بنیادی طور پر سفارتی تعلقات، ویزا معاہدوں، امیگریشن خطرات، سیکیورٹی معیارات اور بین الاقوامی اعتماد پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل امریکہ بھی پاسپورٹ درجہ بندی میں سرفہرست نہیں ہے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین بھی پاسپورٹ طاقت کے معاملے میں کئی ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت کی پاسپورٹ درجہ بندی میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2006 میں بھارت 71ویں نمبر پر تھا۔ بعد ازاں درجہ بندی میں کمی آئی اور 2015 میں یہ 88ویں نمبر تک پہنچ گئی۔ کووڈ-19 وبا کے دوران بھارتی پاسپورٹ کی عالمی سفری نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔ تاہم وبا کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے اور بھارت بتدریج بہتر درجہ بندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے باوجود، دیگر ممالک کی جانب سے تیزی سے نئے ویزا فری معاہدے کیے جانے کے باعث بھارت کی پیش رفت نسبتاً محدود رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پاسپورٹ درجہ بندی ایک تقابلی نظام ہے۔ اگر بھارت چند نئے ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل بھی کر لیتا ہے، تو بھی اگر دیگر ممالک اس سے زیادہ تیزی سے ایسے معاہدے کر لیں تو بھارت کی درجہ بندی میں نمایاں تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ فی کس آمدنی، ہجرت سے متعلق خدشات، دستاویزات کی سیکیورٹی اور سرحدی کنٹرول جیسے عوامل بھی مختلف ممالک کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اسی وجہ سے کئی چھوٹی مگر ترقی یافتہ معیشتوں کے پاسپورٹس کو بھارتی پاسپورٹ کے مقابلے میں زیادہ طاقتور تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کو مزید دوطرفہ ویزا فری سفری معاہدوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تجارت، سیاحت اور سفارتی تعاون میں اضافہ بھی بھارتی شہریوں کے لیے سفری سہولتوں کو وسعت دے سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں فلپائن اور ملائیشیا جیسے ممالک کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ویزا فری داخلے کی سہولت فراہم کرنا ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اگر اس نوعیت کے معاہدوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں بھارت کی پاسپورٹ درجہ بندی میں نمایاں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔











