جو روٹ نے ٹیسٹ کرکٹ میں 14,000 رنز مکمل کر کے تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا

دی اوول میں نیوزی لینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوران جو روٹ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 14,000 رنز مکمل کیے اور سچن ٹنڈولکر کے بعد یہ سنگِ میل حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے۔

انگلینڈ کے اسٹار بلے باز جو روٹ نے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اور تاریخی کارنامہ اپنے نام کر لیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف دی اوول میں جاری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 14,000 رنز مکمل کر لیے۔

اس کامیابی کے ساتھ جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 14,000 رنز کا ہندسہ عبور کرنے والے دنیا کے صرف دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس تاریخی سنگِ میل نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں مزید مضبوط مقام دلایا ہے۔ ان سے قبل صرف بھارت کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر ہی ٹیسٹ کرکٹ میں 14,000 سے زیادہ رنز بنا سکے تھے۔

سچن ٹنڈولکر کے بعد دوسرا نام

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ طویل عرصے سے سچن ٹنڈولکر کے نام ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 15,921 رنز بنائے تھے، جو آج بھی عالمی ریکارڈ ہے۔ اب جو روٹ اس خصوصی کلب میں شامل ہونے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ تاہم اس مقام تک پہنچنے کے لیے روٹ نے 302 اننگز کھیلی ہیں، جبکہ سچن نے 14,000 رنز کا ہندسہ صرف 279 اننگز میں عبور کر لیا تھا۔

اس کے باوجود جدید کرکٹ کے تناظر میں روٹ کی یہ کامیابی خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں مسلسل کرکٹ، بدلتے فارمیٹس اور مصروف شیڈول کھلاڑیوں کے لیے نئی چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔

جدید دور کے کامیاب ترین ٹیسٹ بلے بازوں میں شامل

جو روٹ نے 2012 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران انہوں نے انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کے اہم ستون کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ شاندار تکنیک، صبر اور ہر قسم کے حالات میں رنز بنانے کی صلاحیت نے انہیں جدید دور کے قابلِ اعتماد ترین بلے بازوں میں شامل کر دیا ہے۔

اپنے ٹیسٹ کیریئر میں روٹ نے 50 سے زائد کی اوسط سے رنز بنائے ہیں اور مسلسل بڑے اسکورز درج کیے ہیں۔ ان کے نام 40 سے زائد ٹیسٹ سنچریاں اور درجنوں نصف سنچریاں موجود ہیں، جو ان کی مستقل مزاجی کی عکاسی کرتی ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز

جو روٹ کے 14,000 ٹیسٹ رنز مکمل کرنے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ اس فہرست میں سچن ٹنڈولکر پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ روٹ اب دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ، جنوبی افریقہ کے جیک کیلس اور بھارت کے راہول ڈریوڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر روٹ آئندہ چند برسوں تک فٹ رہتے ہیں اور اسی طرح کی کارکردگی برقرار رکھتے ہیں تو وہ سچن ٹنڈولکر کے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز کے ریکارڈ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں یادگار کامیابی

جو روٹ نے یہ سنگِ میل اس وقت حاصل کیا جب دی اوول میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ جاری تھا۔ نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے سامنے 463 رنز کا ہدف رکھا، جسے ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے مشکل ہدف تصور کیا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز میں ہینری نکولس نے سنچری اسکور کی، جبکہ رچن رویندرا اور ڈیرل مچل نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی اننگز کی بدولت نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو بڑا ہدف دیا۔

Leave a comment