سیلا فلوریس نے بگڑتی قلبی صحت کا حوالہ دے کر امریکی جیل سے رہائی مانگ لی

وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلا فلوریس نے بگڑتی ہوئی قلبی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی وفاقی جیل سے رہائی کی درخواست کی ہے۔ ان کے وکیلوں نے سخت نگرانی کے ساتھ مقدمے کی سماعت تک انہیں گھر میں نظر بند رکھنے کی تجویز دی ہے۔

وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی اہلیہ اور ملک کی سابق خاتونِ اول سیلا فلوریس نے بگڑتی ہوئی قلبی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی وفاقی جیل سے رہائی کی درخواست کی ہے۔ ان کے وکلا نے سخت نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے ساتھ مقدمے کی سماعت تک انہیں گھر میں نظر بند رکھنے کی تجویز دی ہے۔

گھر میں نظر بندی کی درخواست

69 سالہ سیلا فلوریس کے وکلا مارک ڈونلی اور آندریس سانچیز نے بدھ کو عدالت میں دائر دستاویزات میں امریکی جج سے درخواست کی کہ ان کی موکلہ کو مقدمے کا انتظار جیل کے بجائے گھر میں نظر بند رہ کر کرنے کی اجازت دی جائے۔

وکیلوں نے فلوریس کو بروکلین کی وفاقی جیل سے نکال کر مین ہٹن کے وفاقی عدالتی ضلع میں کسی رہائش گاہ میں رکھنے کی درخواست کی ہے۔ اسی عدالتی ضلع میں فلوریس اور نکولس مادورو کے خلاف مقدمے کی سماعت اگلے جون میں شروع ہونے والی ہے۔

وکیلوں کے مطابق، مجوزہ رہائش گاہ میں فلوریس پر 24 گھنٹے مسلح نگرانی رکھی جائے گی۔ عدالت اور وفاقی استغاثہ کی جانب سے منظور شدہ افراد کو ہی ان سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔ گھر میں ویڈیو نگرانی کی جائے گی اور ان کی فون کالز ریکارڈ کی جائیں گی۔

امریکی وفاقی استغاثہ نے ابھی تک اس درخواست پر اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔ مین ہٹن میں امریکی اٹارنی کے دفتر کے ترجمان نے بھی معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ جج ایلوِن کے. ہیلر اسٹین نے بھی فلوریس کی درخواست پر ابھی فیصلہ نہیں سنایا۔

مادورو اور فلوریس پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات

سیلا فلوریس اور نکولس مادورو دونوں اس وقت بروکلین کی ایک وفاقی جیل میں زیر حراست ہیں۔ انہیں جنوری کے آغاز میں امریکی فوجی دستوں نے کراکس میں واقع ان کے گھر سے رات کے ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا تھا اور بعد میں نیویارک منتقل کیا گیا۔

امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ دونوں امریکہ کو کوکین بھیجنے کی سازش کا حصہ تھے۔ فلوریس اور مادورو نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔

دونوں نے حال ہی میں ایک الگ عدالتی دستاویز کے ذریعے اپنے خلاف دائر فردِ جرم کو خارج کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی ملک کے سربراہ اور خاتونِ اول کی حیثیت سے انہیں قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔

اس دعوے پر بھی عدالت کو فیصلہ کرنا ہے۔ اس لیے فی الحال ان کے خلاف عائد الزامات اور قانونی استثنیٰ سے متعلق دلائل عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں۔

فلوریس نے دل کی بیماری کا حوالہ دیا

فلوریس کے وکیلوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ کئی برس سے مائٹرل والو پرولاپس نامی دل کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق، حراست میں لیے جانے اور جیل میں بند کیے جانے کے بعد سے انہیں اس بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ماہانہ انجیکشن نہیں مل سکے۔

وکیلوں نے بتایا کہ اس کے بجائے فلوریس کو بیبی ایسپرین، اسٹیٹن، ڈلٹیازیم اور ضرورت پڑنے پر سینے کے درد کے لیے نائٹروگلسرین دی جا رہی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، جیل میں قیام کے دوران انہیں مسلسل ایسڈ ریفلکس اور گیسٹرائٹس کی شکایت بھی رہی ہے۔ ان کے دو داڑھ کے دانت نکال دیے گئے ہیں اور ان کا وزن 11.3 کلوگرام، یعنی تقریباً 25 پاؤنڈ کم ہوا ہے۔

کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کی سفارش

فلوریس کے وکیلوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے انہیں کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ اس عمل کے بعد مزید قلبی علاج یا دیگر طبی طریقہ کار کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

وکیلوں کے مطابق، اگر فلوریس کو ایسی کوئی طبی کارروائی کرانی پڑتی ہے تو انہیں اس سے صحت یاب ہونے کے لیے کافی وقت اور ایسا ماحول درکار ہوگا جو ان کی صحت میں بہتری کے لیے موزوں ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حراستی مرکز میں اس طرح صحت یاب ہونے کے لیے ضروری حالات دستیاب نہیں ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے جیل کے بجائے گھر میں نظر بندی کی درخواست کی ہے۔

جیل میں ملنے والی طبی دیکھ بھال پر وکیلوں کا بیان

فلوریس کے وکیلوں نے اپنی دستاویزات میں جیل انتظامیہ کی طبی سہولیات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حراستی مرکز کے عملے نے فلوریس اور ان کے شوہر کے ساتھ انتہائی احترام سے برتاؤ کیا ہے۔

وکیلوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فلوریس کو جیل اور اسپتال میں طبی ماہرین سے اچھی دیکھ بھال ملی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ اچھی طبی دیکھ بھال کے باوجود حراستی مرکز وہ ماحول فراہم نہیں کر سکتا جس کی ممکنہ قلبی کارروائیوں کے بعد صحت یابی کے لیے ضرورت ہوگی۔

عدالتی فیصلے کا انتظار

فلوریس کی رہائی کی درخواست پر امریکی وفاقی عدالت نے ابھی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ استغاثہ نے بھی اس درخواست پر اپنا جواب داخل نہیں کیا۔ اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ عدالت انہیں گھر میں نظر بندی کی اجازت دے گی یا نہیں۔

مادورو اور فلوریس کے خلاف جاری قانونی کارروائی امریکہ اور وینزویلا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدہ تعلقات کے درمیان بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز ہے۔ دونوں کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق الزامات کی سماعت اگلے جون میں شروع ہونے کی تجویز ہے۔

فلوریس کی موجودہ درخواست بنیادی طور پر ان کی صحت اور حراست کے حالات سے متعلق ہے۔ ان کے وکیلوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ مقدمے کی سماعت تک انہیں جیل کے بجائے سخت سکیورٹی انتظامات کے ساتھ گھر میں نظر بند رکھا جائے۔

تجویز کے تحت 24 گھنٹے مسلح نگرانی، ویڈیو مانیٹرنگ، فون کالز کی ریکارڈنگ اور عدالت کی جانب سے منظور شدہ افراد سے ملاقات جیسی پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اب اس معاملے میں امریکی استغاثہ کے جواب اور جج ایلوِن کے. ہیلر اسٹین کے فیصلے کا انتظار ہے۔

Leave a comment